کرونا وائرس سے پیدا شدہ حالات اور پاکستانی آبادی میں اضافہ
کیا اس سال پیدا ہونے والے پچاس لاکھ بچوں کا بوجھ
پاکستان کی کمزور معشیت سہہ پائے گی؟
آبادی میں اضافہ پاکستان کا اولین مسئلہ رہا ہےاعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ % 2.4کی شرح سے اضافہ ہوتا ہےجو کہ جنوبی ایشاء میں سب سے ذیادہ ہےجبکہ ہمارے ہمسایہ ملک انڈیا میں یہی شرح 1 ٪ ہے
گو کہ یہ اضافہ گزشتہ ایک دہائی سے معمول کے ساتھ ہو رہا ہے لیکن اس سال کووڈ 19 لاک ڈوان کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی حالات کی وجہ سےیہ مسئلہ پاکستان کے لیے باقاعدہ تشویشناک شکل اختیار کر چکا ہے
یونیسیف رپورٹ کے اعداد و شمار
اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے سائے
میں دنیا کی آبادی میں تقریبا 11 کروڑ 26 لاکھ بچوں کا اضافہ متوقع ہے جس میں سے ایک چوتھائی اضافہ صرف جنوبی ایشاء میں ہو گا جو کہ تقریبا 2 کروڑ اور 90 لاکھ نفوس بنتے ہیں۔ ان میں سے 50 لاکھ انسانوں کا اضافہ صرف پاکستان میں ہو گا ویسے تو گزشتہ ایک دھائی سے یہ اضافہ معمول ہے لیکن اگر اس سال پاکستان کی معشیت کی شرح نمو کو دیکھا جائے تو اضافہ معمول سے بہت ذیادہ محسوس ہوتا ہےگزشتہ چند سالوں سے پاکستان کی شرح نمو 3۔3 فیصد رہ رہی ہے لیکن اس سال کرونا لاک ڈوان کی وجہ سے یہ منفی 0.5 فیصد رہنے کا اندیشہ ہے جس سے نہ صرف ملک میں غربت بے روزگاری اور بھوک میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کے معشیت پر بھی بہت برے اثرات مرتب ہونگے۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ہمارے حکمران اس معاملے پر کب توجہ دیں گے۔
کیا اس سال پیدا ہونے والے پچاس لاکھ بچوں کا بوجھ
پاکستان کی کمزور معشیت سہہ پائے گی؟
آبادی میں اضافہ پاکستان کا اولین مسئلہ رہا ہےاعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ % 2.4کی شرح سے اضافہ ہوتا ہےجو کہ جنوبی ایشاء میں سب سے ذیادہ ہےجبکہ ہمارے ہمسایہ ملک انڈیا میں یہی شرح 1 ٪ ہے
یونیسیف رپورٹ کے اعداد و شمار
اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے سائے
میں دنیا کی آبادی میں تقریبا 11 کروڑ 26 لاکھ بچوں کا اضافہ متوقع ہے جس میں سے ایک چوتھائی اضافہ صرف جنوبی ایشاء میں ہو گا جو کہ تقریبا 2 کروڑ اور 90 لاکھ نفوس بنتے ہیں۔ ان میں سے 50 لاکھ انسانوں کا اضافہ صرف پاکستان میں ہو گا ویسے تو گزشتہ ایک دھائی سے یہ اضافہ معمول ہے لیکن اگر اس سال پاکستان کی معشیت کی شرح نمو کو دیکھا جائے تو اضافہ معمول سے بہت ذیادہ محسوس ہوتا ہےگزشتہ چند سالوں سے پاکستان کی شرح نمو 3۔3 فیصد رہ رہی ہے لیکن اس سال کرونا لاک ڈوان کی وجہ سے یہ منفی 0.5 فیصد رہنے کا اندیشہ ہے جس سے نہ صرف ملک میں غربت بے روزگاری اور بھوک میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کے معشیت پر بھی بہت برے اثرات مرتب ہونگے۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ہمارے حکمران اس معاملے پر کب توجہ دیں گے۔


good post
ReplyDelete